Sunday, September 14, 2014

آزادی مارچ کے نام


میری تازہ  ترین   تخلیق، آزادی مارچ  کےنام انتساب کرنا چاہتی ہوں۔

تبدیلئ  حالات کی امید جواں ہے
آزاد‏ئ   جمہور کی تحریک  رواں ہے

بےربط خیالات میں پوشیدہ مضامیں
تقریرسے قاصر نہیں،  پابند زباں ہے

حاکم کوگوارا نہیں حق گوئی یہاں پر
سو شہرخرابات میں ہر سمت دھواں ہے

احباب میرے لہجے کی تلخی پہ ہیں برہم
غاصب کی خطا معاف کہ وہ شیریں بیاں ہے

جمہوری کرامات کی  یہ کیسی عنایت
ہردورمیں جمہور ہی بے مول یہاں ہے

بیبلی

No comments:

Post a Comment